عراق، لیبیا اور اب یوکرین، جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے

عراق، لیبیا اور اب یوکرین، جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے

عراق، لیبیا اور اب یوکرین، جوہری عدم پھیلاؤ کے لیے ایک دھچکا

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں اخبار فروخت کرنے والے سٹینڈ پر اخبارات کی سرخیوں میں شمالی کوریا کی طرف سے ایک اور جوہری تجربہ کرنے کے حوالے سے خبردار کیا گیا تھا۔

اخبارات میں اس خبر کی اشاعت سے قبل ہی ایک 28 سالہ ورکر لی جے سانگ نے اس انتہائی حساس معاملے پر اپنی رائے بنا لی تھی کہ شمالی کوریا کی جوہری ہتھیار سرحد یا اس سے آگے سمندر پار پھینکے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا کس طرح جواب دیا جانا چاہیے۔

لی کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ملک کو جوہری پروگرام بنانا چاہیے۔ اور ایٹمی جنگ کی تیاری کرنی چاہیے۔‘ لی کی یہ رائے فروری میں کیے جانے والے رائے عامہ کے اُس جائزے کی عکاسی کرتی ہے جس میں جنوبی کوریا کے ہر چار میں سے تین شہریوں نے اس قسم کی رائے دی تھی۔

عالمی سطح پر جوہری صلاحیت نہ رکھنے والے ملکوں میں سیاست دان اور عام عوام اب اکثر یہ نکتہ اٹھانے لگے ہیں جو نصف صدی پر محیط بین الاقوامی جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششوں کو تیزی سے کمزور کر رہا ہے اور ہر روز روس کے ہاتھوں یوکرین کی تباہی کی خبروں سے اور زیادہ شدت سے اٹھایا جانے لگا ہے۔

جوہری ہتھیار
’اگر کوئی صدر اپنی طرف سے ایٹمی میزائل لانچ کرنے کا حکم دیتا ہے تو اسے روکنا بہت مشکل ہے‘

ایشیائی ریاستوں میں اب اس بارے میں سنجیدگی سے نظر ثانی کی جا رہی ہے۔ اس خطے میں شمالی کوریا، چین، روس اور ایران اب زیادہ اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں۔ ان چار میں تین ملک جوہری صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ کہ چوتھا ملک ایران اس سمت میں پیش رفت کر رہا ہے۔

دوسری طرف خطے کے باقی تمام ملکوں کو کوئی جوہری ہتھیاروں سے دفاع کی کوئی ضمانت حاصل نہیں ہے اور نہ ہی وہ اپنی جغرافیائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کسی ایسے بین الاقوامی اتحاد کی حصہ ہیں جس طرح کا دفاعی اتحاد یورپی ملکوں کے لیے نیٹو کی شکل میں موجود ہے۔

سکیورٹی امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ ایسے ممالک جو اس نوعیت کے خطروں سے دوچار ہیں وہ یوکرین کی جنگ سے سبق سیکھ رہے ہیں خاص طور پر جب روس یوکرین کے ٹکڑے کر رہا ہے اور باقی دنیا اس کے جوہری صلاحیت کے ہاتھوں مجبور ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورت حال میں جوہری صلاحیت نہ رکھنے والے ملک بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے یہ بات بھی اہم ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی یورپی ملک کسی طرح یورپ، خیلیج فارس اور ایشیا میں چھوٹے ملکوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ اپنے دفاع کے لیے امریکہ کی روایتی اور جوہری صلاحیتوں پر یقین رکھیں اور جوہری ہتھیاروں حاصل کرنے کی خواہش ترک کر دیں۔

میزائل

امریکہ میں ہاورڈ کینیڈی سکول آف گورنمنٹ میں پراجیکٹ آن مینیجنگ ایٹم میں تحقیق کار ماریانہ بڈجیرن کا کہنا تھا کہ جوہری صلاحیت رکھنے والے ملک کے ہمسایہ ممالک کے فکر مند رہنما اپنے عوام سے کہیں گے کہ جوہری پروگرام بنانے کی حمایت کریں کیونکہ دیکھیں کہ یوکرین میں کیا ہوا ہے۔

مریانا سنہ 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے دور کے یوکرین میں جب سکول میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں تو انھیں تابکاری شعاوں کی زد میں آ کر جلنے کے زخموں کی مرہم پٹی کرنے کی تربیت دی گئی تھی۔ اس وقت یوکرین میں سوویت یونین کے دور میں بنائے گئے پانچ ہزار جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود تھا۔

سویت یونین کے زوال کے بعد یوکرین نے مغربی دنیا سے معاشی تعاون اور سکیورٹی کی ضمانت کی امید پر جوہری ہتھیار روس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔

مریانا کہتی ہیں کہ وہ یہ سمجھتی ہیں کہ اس جنگ کے انجام پر اس بات کا دار و مدار ہے کہ ہم جوہری ہتھیاروں کی اہمیت کو کیسے دیکھتے ہیں۔

جوہری صلاحیت رکھنے والے ملکوں سے مسابقت کا سامنا کرنے والے اپنے اتحادی ملکوں کو امریکہ یقین دہانیاں کرانے کی کوششیں کر رہا ہے۔

ہیرو شیما ناگا ساکی
6 اگست 1945 کو پہلی بار ہیروشیما پر نیوکلیئر حملہ کیا گیا

شمالی کوریا کی سرحد کے قریب اس ماہ کے شروع میں رات کے وقت سفید شعلہ سا فضا میں بلند ہوتا ہوا دیکھا گیا جو ایک محراب سی بناتا چلا گیا۔ یہ امریکہ اور جنوبی کوریا میں گزشتہ پانچ برس میں پہلے بین البراعظمی میزائل کا تجربہ تھا۔

یہ شمالی کوریا کی طرف سے اس برس بین البراعظمی میزائلوں کے 18 تجربات کا سیدھا جواب تھا۔

یورپ اور خلیج فارس کے ملکوں میں صدر بائیڈن اور امریکہ کی فوج کے اعلی ترین فوجی اہلکاروں اور سفارت کار حتی کے فوجی دستے بھی روس کے ہمسایہ مغربی ملکوں اور ایران کی تیل پیدا کرنے والی خلیجی ریاستوں میں سرگرم نظر آ رہے ہیں۔

بائیڈن اور ان کے نائبین یہ وعدے کر رہے ہیں کہ امریکہ ایران، شمالی کوریا اور دوسرے ملکوں سے پیدا ہونے والے جوہری خطرات سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔

چین میں صدر شی جی پنگ جارحانہ خارجہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں جس کی پشت وہ جوہری ہتھیاروں کو پوری قوت سے بڑھا رہے ہیں۔

ایشیا سے تعلق رکھنے والے کچھ سابقہ اعلی حکام نے یوکرین کے حوالے سے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ غیر جوہری ملک جوہری صلاحیت حاصل کرنے یا امریکی جوہری ہتھیاروں کو اپنے ملک میں نصب کروانے کے بارے میں سوچیں۔

سنگاپور کے سابق وزیر خارجہ بلاہاری کوسیکان نے اس سال مارچ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ جاپان اور جنوبی کوریا جوہری قوت بنانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ان کے لیے سیاسی طور انتہائی تکلیف دہ اور مشکل فیصلہ ہو گا۔ لیکن ان کے پاس متبادل کیا ہے۔‘

جنگ

امریکہ میں یو ایس نیول وار کالج کے پروفیسر ٹرینس روہرگ کا کہنا ہے کہ ’جن لوگوں کا خیال ہے کہ شمالی کوریا اپنے جوہری ہتھیار ترک کر دے گا، اُن کے لیے یوکرین کی مثال تابوت میں ایک اور کیل کی مانند ہے۔‘

روہرگ نے کہا کہ شمالی کوریا کے لیے یوکرین عراق اور لیبیا کی طرح کی ایک اور مثال ہے جنھوں نے اپنے جوہری صلاحیت ختم کر دی اور دیکھیے ان کے ساتھ کیا ہوا۔

یوکرین کے پاس جوہری ہتھیاروں کا کبھی بھی آپریشنل کنٹرول نہیں تھا۔ سوویت یونین کے زوال کے ساتھ یوکرین کے پاس جوہری ہتھیاروں کو دنیا کا تیسرا بڑا ذخیرہ آیا تھا۔

ماریانا اس کی وجہ سے سنہ 1990 میں یوکرین کے پاس بہت کمزور پتے رہے گئے تھے جب اس نے امریکہ، روس اور دیگر ملکوں سے سوویت یونین کے دور کے بعد کی دنیا میں اپنے مقام کے بارے میں مذاکرات کیے۔ یوکرین کو اس کی سلامتی کے بارے میں کوئی گارنٹی نہیں حاصل ہوئی۔

یوکرین کے صدر ولادمیر زیلنسکی نے سنہ 1994 میں ہونے والے اس معاہدے کو ‘کاغذ کا پرزہ قرار دیا تھا۔’

امریکہ نے اپنے طور پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والے ملکوں کو وسیع پیمانے والے تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے باز رکھنے کے لیے بے شمار وجوہات پیش کئیں۔

مغرب ملکوں نے لیبیا کے سابق رہنما معمر قدافی کو سنہ 2003 میں ملک کا جوہری پروگرام جو ابھی اپنے ابتدائی مراحل ہی میں تھا ترک کرنے پر مجبور کر دیا۔ چند سال بعد قدافی کے صاحبزادے سیف الاسلام نے ایک تحقیق دان میلفرد بروت ہیگہیمر سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد کو سب سے زیادہ اس بات کی فکر تھی کہ مغربی ملک ان کے خلاف ہونے والی بغاوت کی حمایت کریں گے۔

بروت ہیگہیمر جو یونیورسٹی آف اوسلو میں نیوکلیّر اور سیکورٹی سٹریٹجی کے پروفسیر ہیں انہوں نے کہا ‘خاطر جمع رکھیں چند برس بعد ہیں سنہ 2011 میں آپ نے دیکھا لیبیا کیا ہوا۔‘

یوکرین
ڈونیسک کے علاقے میں ایک خاتون راکٹ لگنے کے بعد گھر کے کونے میں نقصان کا جائزہ لے رہی ہے

نیٹو ممالک میں شامل مغربی ملکوں فرانس اور برطانیہ نے امریکہ کے کہنے پر لیبیا میں سنہ 2011 میں معمر قدافی کے خلاف ہونے والی بغاوت کی پشت پناہی شروع کر دی۔ فرانس اور برطانوی فضائیہ نے قدافی کی افواج کے قافلے پر بمباری کی۔ اس کے بعد باغیوں نے معمر قدافی کو گرفتار کر لیا اور ان پر تشدد کر کے ہلاک کر دیا۔

عراق میں امریکہ نے جوہری پروگرام ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد سنہ 2003 میں صدام حیسن کو ایک جھوٹے دعوی کہ عراق وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار (ڈبلیو ایم ڈی) بنا رہا ہے اقتدار سے علیحدہ کر دیا۔ تین سال بعد غیر قانونی طور پر عراق پر حملہ کرنے والی امریکی اور اس کے اتحادی ملکوں کی افواج نے صدام حسین کو تخت دار پر لٹکا دیا۔

مشرق وسطی میں حکمرانوں کے عبرت ناک انجام سے شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی امریکی کوششوں کو یقینی طور پر اثر پڑا ہو گا۔

امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان مذاکرات سنہ 2018 میں اس وقت دم توڑ گئے جب سابق صدر ٹرمپ نے ‘لیبیا’ کی مثال دی اور اس وقت کے امریکی نائب صدر مائیک پینس نے کم جونگ اُن کو قدافی کے انجام سے سبق سیکھنے کی دھمکی دی۔

شمالی کوریا نے جواب دیا ‘جاہل اور بے وقوف۔’

بروت ہیگہیمر نے کہا کہ اب یوکرین پر روس کے حملے نے ان ملکوں کا جن کے پاس جوہری ہتھیار ہیں یا ان کا پروگرام کافی آگے بڑھ چکا ہے اس کو چھوڑنا ایک خوفناک خیال ہو گا۔

دنیا کے جوہری صلاحیت رکھنے والے نو ملک ، امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس، انڈیا، پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریا کے پاس مجموعی طور پر 13000 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

اسرائیل جوہری ہتھیار رکھنے کے بارے میں ابہام کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور سرکاری سطح پر ہتھیار رکھنے کی تصدیق نہیں کرتا۔

بڑی جوہری قوتوں نے ہمشیہ یہ کوشش کی ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ کون سے ملک اس کلب کا حصہ بن سکتا ہے۔ جن ملکوں نے اپنے طور پر ایسی کوششیں کی ہیں جن میں ایران اور شمالی کوریا کو اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جوہری ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا اور سعودی عرب ان ملکوں میں شامل ہیں جو جوہری ہتھیار حاصل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے سنہ 2018 میں اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار بنا لیے تو وہ فوری طور جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

نیٹو کے نیوکلیئر ڈائریکٹریٹ کی سربراہ جیسکا کوکس نے اپریل میں ایک جگہ کہا تھا کہ یہ حیران کن ہے کہ دوسرے ملکوں نے جوہری ہتھیار کیوں نہیں حاصل کیے۔

انھوں نے کہا کہ اگر آپ تاریخی تناظر میں دیکھیں تو سنہ 1950 اور سنہ 1960 کی دہائی میں یہ واضح نہیں تھا کہ ستر سال بعد دنیا میں صرف دس سے بھی کم ایسے ملک ہوں گے جن کے پاس جوہری ہتھیار ہوں گے۔

یورپ میں جس بات سے فرق پڑا وہ نیٹو کا جوہری ڈر تھا۔ کوکس نے کہا کہ تیس ملکوں نے جوہری ہتھیاروں کی ذمہ داری مشترکہ طور پر اٹھائی جس کی وجہ سے ان پر کوئی حملہ نہیں ہو سکا۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یوکرین نے درست فیصلہ کیا جب اس نے جوہری ہتھیاروں سے لیس مستقبل کو چھوڑ کر ممکنہ تنہائی سے گریز کیا۔ اس نے یوکرین کو دنیا کی معیشت کے ساتھ ضم ہونے اور روس کے خلاف اپنے دفاع میں مدد کرنے والے طاقتور ممالک کے ساتھ اتحاد قائم کرنے میں تین دہائیاں دیں۔

یوکرین میں ایک نوجوان خاتون کے طور پر، بڈجیرن کو 1990 کی دہائی کے معاہدے کے بعد ایک موقع پر احساس ہوا کہ اس کی اپنی ملازمت، پھر کاروبار کی ترقی میں، کلنٹن انتظامیہ کی طرف سے فنڈز فراہم کیے گئے، جوہری معاہدے کے لیے یوکرین کو مغرب کے انعامات کے حصے کے طور پر۔

انھوں نے کہا ’اگر یوکرین غالب آ جاتا ہے، تو اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے گا کہ جوہری ہتھیار بیکار ہیں۔‘

’لیکن اگر یوکرین ہار جاتا ہے تو کہانی بہت مختلف نظر آئے گی۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *