ذاتی شناخت، خاندانی اثرورسوخ یا پارٹی ووٹ بینک

ذاتی شناخت، خاندانی اثرورسوخ یا پارٹی ووٹ بینک

ذاتی شناخت، خاندانی اثرورسوخ یا پارٹی ووٹ بینک: بڑے مقابلوں میں جیتنے والی خواتین کی کامیابی کا سہرا کس کے سر؟

پاکستان کے حالیہ عام انتخابات میں زیادہ تر سیاسی جماعتیں خواتین امیدواروں کو جنرل نشستوں پر انتخاب لڑ کر اسمبلیوں تک پہنچنے کے زیادہ مواقع نہیں دے پائیں تاہم انتخابات پر نظر رکھنے والے مبصرین کہتے ہیں اس مرتبہ پہلے سے زیادہ خواتین جنرل نشستوں پر جیت کر آئی ہیں۔

قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں میں بہت سے مقابلے سخت رہے جہاں خواتین نے الیکشن سے قبل مضبوط سمجھے جانے والے مرد امیدواروں کو شکست دی۔

ایسے چند سخت مقابلوں کے بعد جہاں خواتین امیدواروں کو شکست ہوئی وہاں بھی انھوں نے ہزاروں کی تعداد میں ووٹ حاصل کیے۔

صوبہ پنجاب کے ضلع حافظ آباد میں ایک دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آیا جہاں مضبوط امیدوار سمجھے جانے والی دونوں خواتین تھیں اور بلآخر پہلی مرتبہ سیاست میں آنے والی خاتوں انیقہ مہدی بھٹی نے پاکستان مسلم لیگ ن کی سینیئر سیاست دان سائرہ افضل تارڑ کو شکست دی۔

صوبہ خیبرپختونخوا میں ویسے تو صرف دو خواتین انتخاب جیت پائی ہیں تاہم ضلع اپر چترال سے صوبائی اسمبلی میں جگہ بنانے والی ثریا بی بی نے اپنی جیت سے بہت سی مثالیں قائم کی ہیں۔

ان کے اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز میں مردوں کی تعداد خواتین سے زیادہ تھی تاہم مردوں سے زیادہ خواتین نے باہر نکل کر ووٹ ڈالے ہیں جہاں ثریا بی بی اپنے مدمقابل مردوں سے لگ بھگ نو ہزار کے قریب ووٹوں کے فرق سے جیتی ہیں۔

خیال رہے کہ روایتی طور پر پاکستان میں زیادہ تر خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح مردوں کے مقابلے انتہائی کم ہوتی ہے جس کی ایک وجہ ماہرین یہ بتانے ہیں کہ زیادہ تر خواتین کے شناختی کارڈ ہی نہیں بنے ہوتے جن کے لیے ان کا انحصار مردوں پر ہوتا ہے۔

SURIYA BIBI FACEBOOK
ضلع اپر چترال سے صوبائی اسمبلی میں جگہ بنانے والی ثریا بی بی نے اپنی جیت سے بہت سی مثالیں قائم کی ہیں

صوبہ سندھ کا رخ کریں تو کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کو گذشتہ انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف کے ہاتھوں کھو جانے والی اپنی ’پکی‘ نشست حالیہ انتخاب میں واپس دلانے والی بھی ایک خاتون آسیہ اسحاق ہیں۔

این اے 232 کورنگی کے علاقے کی یہی نشست ایم کیو ایم سنہ 2002، 2008، 2013 اور 1997 میں جیت چکی تھی تاہم گذشتہ انتخابات میں یہاں ان کے امیدوار کو پی ٹی آئی کے امیدوار کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی۔

کئی پرانے چہروں کے ساتھ ساتھ اس مرتبہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پہنچنے والی خواتین میں چند نئے چہرے بھی نظر آئیں گے جن میں پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز بھی شامل ہیں۔

تاہم سوال یہ ہے کہ اگر جنرل نشستوں پر کم پارٹی ٹکٹ ملنے کے باوجود پہلے سے زیادہ خواتین جیت کر آ رہی ہیں یا دوسرے نمبر پر آ رہی ہیں تو سیاسی جماعتیں مردوں کے مقابلے میں زیادہ خواتین کو ٹکٹ دینے میں کیوں ہچکچاتی ہیں؟

کیا حالیہ انتخابات کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جیتنے والی خواتین نے اپنے بل بوتے پر انتخابی مہمات چلا کر شخصی پہچان پر ووٹ حاصل کیا ہے یا پھر ان کو ملنے والے ووٹ ان کے خاندان یا سیاسی جماعت کے اثرو رسوخ کا نتیجہ ہیں۔

’زیادہ تر یہ خاندان یا جماعت کا اثر و رسوخ ہے‘

mehar bano Qureshi
پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہر بانو قریشی کو اگرچہ شکست ہوئی ہے مگر انھوں نے ہزاروں ووٹ حاصل کیے

حالیہ انتخابات میں کامیاب ہونے والی خواتین کی فہرست پر نظر ڈالیں تو کئی نئے نام سامنے آتے ہیں۔ ان میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار زیادہ ہیں۔

پنجاب کے ضلع لیہ سے عنبر مجید نیازی، پنجاب ہی کے شہر وہاڑی سے عائشہ نذیر جٹ اور حافظ آباد سے انیقہ مہدی بھٹی ان خواتین میں شامل ہیں جو انتخابی سیاست میں قدرے نووارد ہیں۔

صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ان میں زیادہ تر خواتین امیدوار وہ ہیں جن کی جیت میں زیادہ تر عمل دخل سیاست میں ان کے خاندانی اثر و رسوخ کا ہے۔

’عنبر مجید نیازی لیہ سے سابق ایم این اے مجید نیازی کی اہلیہ ہیں۔ مجید نیازی ایک مرتبہ صوبائی اسمبلی کے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ بھی اس لیے امیدوار بنیں کیونکہ مجید نیازی کے لیے خود پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے انتخاب لڑنا مشکل ہو رہا تھا۔‘

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اسی طرح عائشہ نذیر جٹ بورے والا کے سیاسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جو اس سے قبل سنہ 2018 میں بھی انتخابات میں حصہ لے چکی ہیں۔

’جہاں ان کی اپنی تگ و دو بھی ہو گی لیکن ان کو ملنے والا زیادہ تر ووٹ بھی بظاہر ان کے والد نذیر جٹ کے سیاسی اثر و رسوخ کا نتیجہ ہو سکتا ہے جو کئی مرتبہ قومی اسمبلی کے ممبر رہ چکے ہیں۔‘

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پنجاب سے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے مقابلے کرنے والی دونوں خواتین کا تعلق بھی علاقے کے دو بڑے سیاسی خاندانوں سے ہے۔

’یہ دراصل زیادہ تر دو جماعتوں کی لڑائی تھی‘

حافظ آباد کے حلقے این اے 67 میں الیکشن سے قبل ہی مقابلہ انتہائی سخت ہونے کی توقع کی جا رہی تھی۔ یہاں سے پاکستان مسلم لیگ ن کی امیدوار سائرہ افضل تارڑ تھیں جو گذشتہ کئی انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں اور کم از کم دو مرتبہ جیتی ہیں۔

ان کے مقابلے میں حافظ آباد کی دوسری بڑی برادری یعنی بھٹی خاندان سے تعلق رکھنے والی انیقہ مہدی بھٹی کو پاکستان تحریکِ انصاف کی حمایت حاصل تھی۔ سائرہ افصل تارڑ نے اس حلقے سے 184000 کے قریب ووٹ حاصل کیے۔

کسی دوسرے حلقے میں اتنے زیادہ ووٹ شاید جیت کے لیے کافی ہوتے تاہم این اے 67 میں ووٹر ٹرن آوٹ لگ بھگ 57 فیصد رہا اور سائرہ افضل تارڑ کی مدِ مقابل انیقہ مہدی نے 211000 سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے انھیں شکست دی۔

پاکستان میں پارلیمانی کارکردگی اور جمہوری نظام پر نظر رکھنے والے ادارے پلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب سمجھتے ہیں کہ اس نشست پر ’دراصل زیادہ تر یہ دو جماعتوں کی لڑائی تھی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ انیقہ مہدی گو کہ سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں تاہم اس نشست پر ان کو زیادہ ووٹ ملنے کی بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ ’پی ٹی آئی کی ایک لہر چل رہی تھی اور اس لہر کا انھیں بھی فائدہ ہوا۔‘

صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اس نشست پر گو کہ ایک خاتون جیت کر اسمبلی میں پہنچی ہیں تاہم ان کی جیت میں زیادہ کردار ان کی شخصی پہچان کے بجائے ان کے خاندان کے اثر و رسوخ اور ووٹ بینک کا ہے۔

تصویر

’خاندانی اثر و رسوخ کی بات مرد اور خواتین دونوں پر لاگو ہوتی ہے‘

پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کے خیال میں خواتین کی جیت میں جہاں ان کے خاندانی اثر و رسوخ کی بات آتی ہے تو یہ صرف ان ہی تک محدود نہیں ہے۔

’خاندانی اثر و رسوخ کی بات مردوں اور خواتین دونوں کے لیے ایک جیسی ہے۔ کیا مردوں کے لیے خاندانی اثر و رسوخ کام نہیں کرتا۔ یہ دونوں کے لیے ایک جیسا ہے۔‘

احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ اس کے باوجود ایسی خواتین جن کو سیاسی خاندان سے وابستگی کا فائدہ سیاست میں آنے کے لیے ہوا تاہم انھوں نے اپنے بل بوتے پر اپنی سیاست کو آگے بڑھایا ہے۔

ان کے خیال صوبہ سندھ سے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی خواتین نفیسہ شاہ اور شازیہ مری ان خواتین میں شامل ہیں جنھوں نے اپنی خود کی پہچان بنائی ہے۔

’ان کا تعلق بااثر خاندانوں سے ضرور ہو گا لیکن انھوں نے اپنے کام سے اپنی انفرادی پہچان بنائی ہے اور اس کے بل بوتے پر وہ مسلسل جیت کر قومی اسمبلی میں پہنچتی رہی ہیں اور اس مرتبہ بھی جیتی ہیں۔‘

صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اسی طرح صوبہ پنجاب میں ضلع وہاڑی کے بااثر دولتانہ خاندان سے تعلق رکھنے والی تہمینہ دولتانہ بھی پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر اس مرتبہ جیت کر آنے والی خواتین میں شامل ہیں۔

’انھوں نے بھی اپنے والد کی وفات کے بعد اپنی سیاسی جدوجہد سے ملک کی سیاست میں اپنا مقام بنایا ہے اور وہ اپنی پہچان رکھتی ہیں جن کا اپنا شخصی ووٹ بینک بھی موجود ہے۔‘

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اسی طرح بہت سے ایسی خواتین ہیں جنھوں نے ایک دفعہ ملنے والے موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک مضبوط سیاسی کیریئر بنایا ہے۔

الیکشن

’خواتین کو یقینی سیٹوں کا ٹکٹ دینا چاہیے‘

حالیہ انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف ایک ایسی سیاسی جماعت تھی جس نے 20 سے زیادہ خواتین امیدواروں کو قومی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات لڑنے کے لیے ٹکٹ دیے تھے۔ ان میں چند کامیاب بھی ہوئی ہیں۔

تاہم جو خواتین کامیاب نہیں ہو پائیں انھوں نے جو ووٹ حاصل کیے ہیں زیادہ تر مواقع پر ان کی تعداد ہزاروں میں ہے جیسا کہ لاہور سے ڈاکٹر یاسمین راشد، عالیہ حمزہ، راولپنڈی سے سیمابیہ طاہر، اٹک سے ایمان وسیم، ملتان سے مہربانو قریشی اور دیگر شامل ہیں۔

تجزیہ نگار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین بھی اتنا ہی کامیابی سے الیکشن میں حصہ لے کر جیت سکتی ہیں تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں ان کی حوصلہ افزائی کریں۔

’سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ خواتین کو ان حلقوں یا نشستوں سے ٹکٹ دیں جہاں سے ان کو معلوم ہو کہ ان کی جماعت کی جیت یقینی ہے۔‘

پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ پاکستان میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔ پانچ فیصد کوٹہ کی شرط پورا کرنے کے لیے زیادہ تر خواتین کو ان حلقوں سے ٹکٹ دیا جاتا ہے جہاں سیاسی جماعتوں کو یقین ہو کہ وہ نہیں جیت سکتیں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کو اس روایت کو ختم کر کے زیادہ سے زیادہ خواتین کو جنرل نشستوں پر انتخاب لڑنے کے لیے ٹکٹ جاری کرنے چاہئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *