پرسیورینس روور نے مریخ سے رنگین کی بجائے

پرسیورینس روور نے مریخ سے رنگین کی بجائے

پرسیورینس روور نے مریخ سے رنگین کی بجائے بلیک اینڈ وائٹ تصویر کیوں بھیجی؟

جب 1969 میں انسان چاند پر اترا تھا اس وقت تو ہمیں رنگین تصاویر اور ویڈیوز دکھائی گئی تھیں، آج 2021 میں لاکھوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد بھی ہمیں مریخ سے بلیک اینڈ وائٹ تصاویر دیکھنے کو مل رہی ہیں۔’

گذشتہ روز امریکی خلائی ادارے ناسا کا پرسیورینس روور نامی روبوٹ نظامِ شمسی کے چوتھے سیارے مریخ پر پہنچ گیا تھا جہاں سے اس کی جانب سے بھیجی جانے والی تصاویر پر دنیا بھر سے مختلف سوالات اور تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

ان خدشات کا اظہار کرنے والے ایک ٹوئٹر صارف کے علاوہ بھی اکثر صارفین پرسیورینس روبوٹ سے بھیجی جانے والی تصاویر کے حوالے سے سوالات کر رہے ہیں۔ یہ تصاویر بلیک اینڈ وائٹ کیوں ہیں، یہ کتنی دیر میں زمین تک پہنچتی ہیں؟

یہ یقیناً ایک تاریخی تصاویر ہیں اور ناسا کی جانب سے مریخ پر ایک انتہائی پیچیدہ مشین بھیجی گئی ہے جو جدید ترین کیمروں سے لیس ہے۔ ایسے میں بلیک اینڈ وائٹ تصاویر کی زمین پر منتقلی نے اکثر افراد کو اچھنبے میں ڈال دیا ہے۔

ایسا کیوں ہے کہ 23 کیمروں سے لیس اس روبوٹ نے جاتے ہی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر بھیجی ہیں؟ اس حوالے سے ہم نے ناسا کی جانب سے شائع کیے جانے والے دستاویزات سے معلومات حاصل کی ہیں۔

یہ تصاویر اوئیڈینس ہیزرڈ کیمرے سے لی گئی ہیں

ناسا کی جانب سے پرسیورینس سے متعلق جاری کی جانے والی معلومات کے مطابق اس میں 23 کیمرے نصب ہیں جن میں سے چھ ہیزرڈ کیمرہ ہیں۔ یعنی جیسے کچھ گاڑیوں کے عقب میں کیمرے نصب ہوتے ہیں جن سے آپ کو گاڑی ریورس کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

گذشتہ روز جو دو تصاویر جاری کی گئی تھیں وہ دونوں ہی ہیزرڈ کیمروں سے لی گئی تھیں اور یہ کیمرے رنگین تصویر بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ یہ کیمرے دراصل روور کو سامنے اور عقب میں موجود کسی بھی رکاوٹ کے بارے میں بتاتے ہیں اور یہ اس کے لیے ایک تھری ڈی ویو دیتے ہیں۔

بی بی سی کے پروگرام نیوز ڈے سے بات کرتے ہوئے اس پراجیکٹ پر بطور پلینیٹری پروٹیکشن انجینیئر کی حیثیت سے کام کرنے والی ڈاکٹر موگیگا کوپر نے کہا کہ ہم انجینیئرز خاصے بے صبرے ہوتے ہیں، اس لیے ہم نے فوراً ہی کم ریزولوشن کی بلیک اینڈ وائٹ تصویر شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ ‘میں نے اب سے کچھ دیر پہلے ہائی ریزولوشن تصاویر دیکھی ہیں اور وہ انتہائی خوبصورت ہیں لیکن ظاہر ہے انھیں زمین تک آنے والے میں کئی گھنٹے لگ جاتے ہے۔

مریخ

یہ تصاویر تقریباً 11 منٹ کے اندر زمین پر موصول ہو گئی تھیں جبکہ رنگین تصاویر تاحال شائع نہیں کی گئیں۔

ان تصاویر پر دھول کیوں ہے؟

خیال رہے کہ یہ تصاویر روور کے مریخ پر لینڈ کرنے کے فوراً بعد بنائی گئی تھیں جس کے باعث وہاں لینڈنگ کے دوران اڑنے والے دھول اب بھی موجود تھی۔

ڈاکٹر موگیگا نے بتایا کہ ‘اس وقت تو روور کے کیمروں پر سے حفاظتی کوّر بھی موجود تھے۔ آپ خود ہی سوچیں کے جب آپ کیمرے کے لینز پر کوّر چڑھا کر تصویر بنائیں تو وہ کیسی آئے گی؟’

یہاں یہ بات بھی بتانا ضروری ہے کہ اس روور میں موجود کیمروں اور مائیکروفونز کے ذریعے زمین پر موجود افراد کو ایسی ویڈیوز بھیجی جائیں گی جن سے وہ مریخ اور وہاں اس روور کے تجربے کو قریب سے دیکھ سکیں گے۔

یہاں تک کہ اس میں موجود انجینویٹی ہیلی کاپٹر میں بھی دو کیمرے نصب ہیں جن کے ذریعے اس کی پرواز کے دوران تصاویر بنائی جائیں گی

گذشتہ رات سے ہی مریخ کی ایک جھلک دیکھنے کے بعد سے اکثر صارفین مختلف مزاحیہ تبصرے بھی کرتے نظر آئے اور اسے انسانی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کہتے بھی دکھائی دیے۔

اکثر صارفین اس تصویر پر جو بائیڈن کی حال ہی مقبول ہونے والی تصویر لگاتے بھی دکھائی دیے اور مختلف میمز بناتے بھی نظر آئے۔ کچھ صارفین نے روور کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ ابھی سے کیوں کام پر لگ گئے ہیں تھوڑا سانس ہی لیتے۔

امریکی صدر جو بائیڈن اور امریکہ کے دیگر اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے ناسا کی ٹیم کو مبارکباد دی گئی۔ امریکی صدر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ‘آج پھر سے ثابت ہوا کہ سائنس کی طاقت اور امریکیوں کی ذہانت کے ساتھ کچھ بھی ممکن ہے۔’

دھر انڈیا کے سابق اوپنر وسیم جعفر نے اس تصویر کا مزاحیہ پہلو ڈھونڈتے ہوئے اس کے کرکٹ کی پچ سے جوڑ دیا اور کہا کہ یہاں جدیجہ اور اشون عمدہ بولنگ کریں گے اور ریورس سوئنگ بھی میسر ہو گی۔ اس لیے یہ انڈیا کے بولنگ اٹیک کے لیے خاصی موزوں وکٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *