مہندر سنگھ دھونی کھیل کے میدان سے سٹرابری

مہندر سنگھ دھونی کھیل کے میدان سے سٹرابری

مہندر سنگھ دھونی کھیل کے میدان سے سٹرابری کے فارم اور ساہیوال نسل کی گایوں تک

انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی آج کل کیا کر رہے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ایک لفظ یا ایک جملے میں دینا مشکل ہے۔

مہندر سنگھ دھونی، جو اپنی پُرسکون طبیعت کے لیے جانے جاتے ہیں، نے کرکٹ کی دنیا کو الوداع کہنے کے بعد ایسا کام شروع کیا ہے جس سے دھونی ہی نہیں اُن کے پڑوسیوں کو بھی فائدہ ہو رہا ہے۔

حال ہی میں دھونی کی ایک تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ سٹرابری کھا رہے تھے۔ یہ ان کے اپنے فارم میں پیدا ہونے والی سٹرابری تھی، جو 43 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔

اس کھیت میں سٹرابری کے علاوہ انناس، شریفہ، امرود، پپیتا، پیاز، ٹماٹر، لوکی، مٹر اور دیگر پھل اور سبزیاں بھی اگائی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی گوبھی کی فصل کاٹ لی گئی ہے اور آم کے درخت الگ سے لگائے گئے ہیں

کرکٹ کی دنیا میں دھونی اپنی عمدہ بیٹنگ اور شاندار طریقے سے میچ ختم کرنے کے لیے مشہور ہیں لیکن جب کرکٹ کے ماہر دھونی نے زراعت کی دنیا میں قدم رکھا تو انھوں نے زرعی شعبے کے ماہرین کی آرا پر اعتماد کیا۔

رانچی کے ضلعی ہیڈ کوارٹر سے 18 کلومیٹر دور سیمبو گاؤں میں دھونی کے فارم ہاؤس کی ذمہ داری زراعت کی تعلیم حاصل کرنے والے روشن کمار سنبھال رہے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے روشن نے کہا کہ ’لاک ڈاؤن کے دوران میں اپنا گھر بنوا رہا تھا۔ اسی وقت مجھے ایک کال موصول ہوئی اور بتایا گیا کہ دھونی نے بلایا ہے۔ میں کچھ سوچے بغیر یہاں چلا آیا تھا اور تب سے یہاں کاشتکاری کے کام کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔‘

سٹرابری

نئی تکنیک اور مزیدار سٹرابری

روشن نے بتایا کہ ’پہلی ملاقات میں دھونی بھیا نے کہا کہ روشن زمین کے ہر کونے کا استعمال کرنا ہے لیکن ہر کونے کی اپنی ایک خاصیت ہو، اس کا خیال رکھنا۔‘

’لہذا پہلے ہم نے زمین تیار کی جس میں چھ ماہ لگے۔ اس کے بعد سٹرابری، تربوز کی کھیتی کی گئی۔ جب بھائی نے سٹرابریز کا ذائقہ چکھا تو انھوں نے کہا کہ میں نے بہت سے ممالک میں سٹرابریز کھائی ہیں لیکن اس کا ذائقہ سب سے بہتر ہے۔‘

روشن کا کہنا تھا کہ ’آپ دیکھیں گے کہ ٹماٹر کے پودے کی جو جڑ ہے وہ بینگن کی ہے۔ اس کو گرافٹنگ تکنیک کہتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ بینگن کی جڑ ٹماٹر سے زیادہ مضبوط ہے۔ اس سے پودا زیادہ دیر تک چلتا ہے اور چونکہ یہ قدرتی اجزا بھی زیادہ جذب کرتا ہے لہذا ٹماٹر کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے۔ عام طور پر ٹماٹر کے پودے ایک سے دو ماہ میں مر جاتے ہیں لیکن ہم یہاں چار مہینوں سے ٹماٹر نکال رہے ہیں۔‘

روشن کے مطابق ’یہاں مکمل طور پر آرگینِک (نامیاتی) کھیتی ہوتی ہے لیکن اس میں غور طلب بات یہ ہے کہ آپ آرگینِک کھیتی کا آغاز پوری طرح آرگینِک طور پر نہیں کر سکتے ہیں، اس کی طرف آہستہ آہستہ منتقل ہونا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں گائے کی پرورش ہوتی ہے، مرغیاں ہیں، مچھلیاں ہیں، بطخیں پالنے کے منصوبے ہیں۔ اسے مربوط فارمنگ بھی کہا جاتا ہے یعنی پیداوار اور دیگر تمام چیزیں یہاں استعمال کی جا سکتی ہیں۔‘

روشن مزید وضاحت کرتے ہیں کہ جب دھونی کی بیگم ساکشی یہاں آئی تھیں تو انھوں نے بھی کچھ تجاویز دیں۔ ساکشی نے کہا کہ اس کا بھی خیال رکھیں کہ زراعت کے ساتھ ساتھ یہاں خوبصورتی بھی ہونی چاہیے۔

دھونی کا فارم

مویشیوں کی دیکھ بھال کا انتظام

فارم ہاؤس کے منیجر کنال گوتم نے بتایا ’کھیتوں میں روزانہ تقریباً 70 سے 80 مزدور کام کرتے ہیں۔ سبھی آس پاس کے دیہات سے ہیں۔ اجرت کے علاوہ انھیں یہاں کاشتکاری کے طریقے بھی سکھائے جا رہے ہیں تاکہ وہ اسی طرح اپنی زمین پر کھیتی باڑی کر سکیں۔ ایک نوجوان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’ان سے ملیں یہ ہیں بھیا دھونی کے ڈاکٹر صاحب۔‘

مویشیوں کی دیکھ بھال کے لیے یہاں ڈاکٹر وشوجیت کو رکھا گیا ہے۔

وشوجیت بتاتے ہیں ’ایک دن دھونی بھیا نے بلایا اور کہا کہ ڈاکٹر یہاں گائے اور مرغیوں کا خیال تو رکھنا ہی ہے لیکن اب آس پاس کے دیہات کی گائیوں کو بھی آپ کو ہی دیکھنا ہو گا۔ لہذا یہاں ایک لفٹنگ مشین لائی جا رہی ہے جس سے مفلوج گائے اور دیگر جانوروں کو بچایا جا سکے گا۔‘

وشوجیت نے یہ بھی بتایا کہ ’فی الحال یہاں 70 گائیں ہیں۔ اس کے علاوہ گیر اور دیسی نسل کی گائیں آنے والی ہیں۔ دیسی نسل کے لیے دھونی نے خاص طورپر ان سے کہا کہ ان سب کے لیے ایک ماڈرن مویشی فارم بنایا ہے جس میں 300 گائے رکھنے کی گنجائش ہے۔ یہاں روزانہ تقریباً 350 سے 400 لیٹر دودھ آتا ہے۔ فی الحال یہ رانچی کے بازاروں میں فروخت ہو رہا ہے۔‘

گائے

کارکنوں نے بتایا کہ دھونی انھیں گائیں پالنے کے لیے دیں گے۔

حال ہی میں دلی سمیت ملک بھر میں کسانوں کی جاری تحریک کے بارے میں بہت سارے کرکٹرز نے ٹویٹ کی لیکن دھونی نے اب تک اس پر کچھ نہیں کہا۔

کرکٹ سے الگ ہونے کے بعد دھونی اپنا زیادہ تر وقت رانچی میں واقع اپنے گھر پر گزارتے ہیں۔ اس دوران فارم پر کبھی ٹریکٹر چلاتے تو کبھی سٹرابری توڑ کر کھاتے ان کی تصاویر سامنے آتی رہی ہیں۔

جسنتا کجور جو دھونی کے کھیتوں میں کام کرتی ہیں، قریبی گاؤں میں رہتی ہیں۔ کجور کا کہنا ہے کہ وہ دھونی سے مل چکی ہیں اور فوٹو بھی کھنچوا چکی ہیں۔ اس دوران دھونی نے انھیں بتایا کہ آنے والے دنوں میں وہ انھیں پالنے کے لیے ایک گائے بھی دیں گے۔ جسنتا کو یہاں ہر دن 200 روپے اجرت ملتی ہے۔

لوگ رانچی کی سبزی منڈی کو ڈیلی مارکیٹ کے نام سے جانتے ہیں۔ یہاں دس بائی دس کی ایک چھوٹی سی دکان ہے لیکن کچھ عرصے سے یہ صارفین اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ دکان میں دھونی کے فارم کا بینر ہے اور اس کے ساتھ ہی اس پر دھونی کی تصویر بھی چھپی ہوئی ہے۔

دھونی کا فارم

دکان کے مالک ارشد عالم کا کہنا ہے کہ ’یہ جو آپ سٹرابریز دیکھ رہے ہیں یہ مہندر سنگھ دھونی کے فارم سے ہر روز آتی ہیں۔ لوگ دھونی کے نام پر تو خریدنے آتے ہی ہیں لیکن چیز اچھی ہے اس لیے بھی خریدتے ہیں۔‘

قریب کھڑے ایک اور دکاندار دیپک نے بھی بتایا کہ وہ اپنے گاہکوں کو بتاتے ہیں کہ یہ سامان دھونی کے فارم ہاؤس سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ خوب خریدتے ہیں اور چیز کی کوالٹی بھی بہتر ہے۔

سمن یادو سے صبح سویرے رانچی کے لال پور چوک پر ملاقات ہوئی۔ ان کے پاس دودھ کا کاؤنٹر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے سال اگست سے وہ دھونی کے فارم کا دودھ یہاں بیچ رہے ہیں۔ ساہیوال اور فرانس کی نسل کی گائے کا دودھ بیچ رہے ہیں۔ اس میں پانی، پاؤڈر، سنتھیٹک یا دوا جیسی کسی بھی طرح کی ملاوٹ نہیں ہے۔ ہر روز ان کے کاؤنٹر پر فارم ہاؤس سے دودھ آتا ہے اور وہ اسے گھروں تک پہنچاتے ہیں۔

حال ہی میں جھارکھنڈ کے وزیر زراعت بادل پتر لیکھ نے کہا تھا کہ وہ مہندر سنگھ دھونی کو جھارکھنڈ میں آرگینِک کاشتکاری کا برانڈ امبیسیڈر بنانا چاہیں گے تاہم اب دھونی اس سے متفق ہیں یا نہیں یہ وقت بتائے گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *