عمران خان اور بشری بی بی کی دورانِ عمرہ تصاویر

عمران خان اور بشری بی بی کی دورانِ عمرہ تصاویر پر سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرے

’پاکستانی مردوں کے لیے اہم پیغام! عوام میں اپنی منکوحہ کا ہاتھ پکڑنے سے زلزلے نہیں آتے۔ اپنا پیار اور اُن کے لیے احترام سب کے سامنے ظاہر کریں۔‘

یہ سوشل میڈیا پر دورِہِ سعودی عرب کے موقع پر وزیرِ اعظم عمران خان اور خاتونِ اول کی عمرے کے دوران لی گئی تصویر پر صحافی جویریہ صدیقی کا تبصرہ ہے۔

مذکورہ تصویر میں وزیرِ اعظم خاتونِ اول بشری بی بی کا ہاتھ تھامے نظر آ رہے ہیں۔

یہاں یہ بھی یاد رہے یہ پہلا موقع نہیں اور اس سے قبل بھی وزیرِ اعظم عمران خان دورہِ سعودی عرب کے مواقع پر اکثر خاتونِ اول کا ہاتھ پکڑے نظر آئے ہیں۔

اکستان میں جہاں بیشتر خواتین و حضرات کو عمران خان کا اپنی اہلیہ کا ہاتھ پکڑنے کی ادا بہت بھائی وہیں بیشتر خواتین یہ شکوہ بھی کر رہی ہیں ہاتھ پکڑنا تو دور کی بات اُن کے شوہر حضرات تو اپنی بیویوں کے ساتھ تصویر تک بنواتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔

وزیرِ اعظم اور بشری بی بی کی تصاویر سامنے آنے کے بعد کئی خواتین سوال کر رہی ہیں کہ ہمارے معاشرے میں شوہر کے لیے سب کے سامنے بیوی کا ہاتھ پکڑنا آخر اتنا معیوب کیوں سمجھا جاتا ہے؟

’سب لوگ ہمیں ایسے گھورتے ہیں جیسے ہم کچھ حرام کر رہے ہوں‘

ریما ناصر نے اپنا تجربہ شئیر کرتے ہوئے لکھا ’میرے شوہر تو دور دراز کے علاقوں میں بھی میرا ہاتھ پکڑے رکھتے ہیں اور خواتین سمیت سب لوگ ہمیں ایسے گھورتے ہیں جیسے ہم کچھ حرام کر رہے ہوں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ایک دن وہ اپنے گھر واپس جا رہے تھے کہ چند پٹھان خواتین نے انھیں ہاتھ پکڑے دیکھ کر اونچی آواز میں ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ’لگتا ہے نئی نئی شادی ہوئی ہے۔‘

صحافی روہان احمد نے بھی ایک واقعہ شئیر کرتے ہوئے لکھا ’میں کسی کی شادی کے موقع پر اپنی اہلیہ کے ساتھ تصویر بنوا رہا تھا اور یہ بات میری ایک عزیزہ کو بری لگ گئی اور انھوں نے کہا ’گھر جا کر یہ کام کرو، یہاں نہیں۔‘

@Roohan2Ahmed

ایک اور صارف نے لکھا ’پاکستان میں مرد اپنی بیوی سے تین میٹر آگے بھاگ رہے ہوتے ہیں، اور مڑ مڑ کر بولتے ہیں، جلدی چلو۔۔ یہی وہ سبق ہے، جو عمران خان ہمیں سمجھا رہے ہیں، کہ اگر منکوحہ ہیں تو بھاگنے کی ضرورت نہیں، اس کا ہاتھ تھام کر چلو۔۔‘

’ہم ہاتھ اس لیے نہیں پکڑتے کہ ایسے نظر لگ جاتی ہے‘

اب جہاں خواتین اتنے شکوے اور سوالات کریں وہاں مرد حضرات کہاں پیچھے رہنے والے تھے۔۔۔ سوشل میڈیا پر وزیِر اعظم کی تصویر نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

روحان قاضی نامی صارف کا کہنا تھا ’براہ مہربانی ان کی عبادت پر تبصرہ کریں ہماری روایات اور احترام کو گڈ مڈ نہیں کریں۔ صرف ہاتھ پکڑنے سے احترام نہیں ہوتا بلکہ عمل و کردار ضروری ہے۔‘

طارق خان نے لکھا ’میں نے ایسے بھی لوگ دیکھے ہیں جو دکھاوے کے لیے تو سب کے سامنے گلے میں ہاتھ تک ڈال کر چلتے ہیں اور اکیلے میں ایک دوسرے کو مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہذا میانہ روی سب سے بہترین ہے۔ بیوی کو معلوم ہونا چاہیے کہ شوہر اس سے کتنا پیار کرتا ہے ناکہ ساری دنیا کو۔‘

@emc2light

کچھ مرد صارفین یہ بھی کہتے نظر آئے کہ ’ہم ہاتھ اس لیے نہیں پکڑتے کہ ایسے نظر لگ جاتی ہے۔‘

شاہد اقبال نے لکھا ’ساس کی شریعت کے مطابق اگر بیٹا بہو کا ہاتھ تھامے تو حرام ہے۔ فوری استغفار کریں۔ حتی’ کہ ایسے جوڑے کا کردار مشکوک ہو سکتا ہے۔۔۔ لیکن اگر داماد بیٹی کا معملہ ہو تو یہ سب حلال ہے۔۔۔۔۔‘

جبکہ سید بلال نے لکھا ’مکہ مکرمہ اور بیرون پاکستان تو شاید ہاتھ پکڑ لیں۔ بات تو جب بنے پاکستان میں بھی ہاتھ پکڑ کر دکھائیں۔‘

’خان صاحب نے مردوں کے لیے بہت اچھی مثال قائم کی ہے‘

@hafeezkhilji00

زیب خواجہ نے لکھا ’مردوں کے لیے بہت اچھی مثال ہے اور خان صاحب ویسے بھی آئیڈیل ہیں۔‘

حفیظ الامین نے لکھا ’عمران خان سے لاکھ اختلاف۔ مگر انھوں نے اپنی بیوی کا ہاتھ تھام کر ایک بہترین کام کیا اور ہمارے مردوں کو ایک اچھا امیج پیش کیا ہے۔‘

عدنان نے لکھا ’ماشااللہ دونوں بہت اچھے لگ رہے ہیں۔ اللّٰہ انھیں پاکستان کی حالات ٹھیک کرنے کی توفیق دیں۔‘

طاہرہ صدیقہ نے تبصرہ کیا ’معاشرہ بدل رہا ہے۔ پرانی دادی نانی اور ان کی دوستوں میں سے کم ہی لوگ زندہ ہیں جو روک ٹوک کریں۔ اب تو بوائے فرینڈز اور گرل فرینڈز کے ہاتھ پکڑنے کا زمانہ آ گیا ہے۔‘

’جناب عمرہ کرنے گئے تھے یا فوٹو سیشن کروانے؟‘

جہاں بیشتر صارفین وزیرِ اعظم کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں وہیں کچھ افراد کو ان کے تصویر بنوانے پر اعتراض ہے۔

ابو حذیفہ نامی صارف پوچھتے ہیں ’جناب عمرہ کرنے گئے تھے یا فوٹو سیشن کروانے؟‘

چند صارفین یہ بھی پوچھتے نظر آئے کہ ’کعبتہ اللہ کے صحن میں یہ عمل ٹھیک ہے؟ کیا یہ آداب کے خلاف نہیں ہے؟‘

جس کے جواب میں کئی افراد کا کہنا تھا کہ حج او عمرے کے موقع چونکہ بہت رش ہوتا ہے اس لیے یہ عام سی بات ہے اور اکثر مرد اپنی اہلیہ یا خاندان کی خواتین کا ہاتھ پکڑے نظر آتے ہیں۔

’یہی تصویر اگر کسی اداکار کی ہوتی تو؟

HereAsfand

پاکستان میں ماضی میں اکثر مساجد وغیرہ میں ادکاروں یا عام شہریوں کی ایسی تصاویر سامنے آنے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کافی سخت ردِعمل دیکھا گیا ہے۔

اسفنر یار نے لکھا ’یہی ہاتھ اگر اسی جگہ کسی ڈرامہ آرٹسٹ نے اپنی منکوحہ کا پکڑا ہوتا تو اسی قوم نے ان کو پتا نہیں کیا کیا سنا دینا تھا۔‘

اور کچھ بیچارے اپنی حسرتوں کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔

ایسے ہی ایک صارف نے لکھا ’مجھے بہت شوق ہے اہنی بیوی کا ہاتھ پکڑ کر چلنے کا لیکن اس کے لیے پہلے مجھے شادی کرنی ہو گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *