بلوچستان میں جبری گمشدگیوں میں اضافہ والد کے بعد اب

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں میں اضافہ والد کے بعد اب

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں میں اضافہ والد کے بعد اب بچے کا نام کون رکھے گا

کفایت اللہ بلوچ بلوچستان کے ضلع قلات میں ایک سکول میں معلم کے فرائض انجام دے رہے تھے کہ رواں برس دو فروری کو نوشکی اور پنجگور میں فرنٹیئرکور کے ہیڈکوارٹرز پر ہونے والے حملے ہوئے۔ اس کے کچھ دنوں بعد کفایت اللہ لاپتہ ہوگئے۔

ان کی اس ’جبری گمشدگی‘ کی خبر ان کی اہلیہ کرن بلوچ نے بتائی۔

کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کفایت بلوچ کی اہلیہ کرن بلوچ نے بتایا ‘میرے شوہر کو 11 فروری کی شب گھر سے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ’منگیچر‘ میں میری آنکھوں کے سامنے سے لاپتہ کیا’۔

جب کرن پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریر پڑھ رہی تھیں تو اس وقت انھوں نے اپنی گود میں اپنا نومولود بچہ بھی اٹھا رکھا تھا۔ کرن نے بتایا کہ شوہر کی جبری گمشدگی کے پانچ روزبعد ہی ان کے گھر بچے کی پیدائش ہوئی۔

کرن بلوچ کا کہنا ہے کہ ‘ہمارے ہاں جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو پیدائش کے چھٹے روز اس کا نام رکھنا والد کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن میرے اس بچے کے معاملے میں ایسا ممکن نہیں ہوسکا کیونکہ اس کی پیدائش سے پانچ روز قبل ہی اس کے والد کو جبری طورپر لاپتہ کر دیا گیا‘۔

کرن بلوچ کی اب سب سے بڑی پریشانی یہی ہے کہ ان کے بچے کا اب نام کون رکھے۔

خیال رہے کہ کفایت بلوچ ہی واحد ایسے فرد نہیں ہیں کہ جنھیں حال ہیں میں ’جبری طور پر لاپتہ‘ کیا گیا ہو۔ بلوچستان میں نوشکی اور پنجگور میں ہونے والے حملوں کے بعد جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

حالیہ دنوں میں رپورٹ ہونے والے ایسے واقعات پر بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ بلوچستان سے جبری گمشدگیوں کا سلسلہ دو دہائیوں سے جاری ہے لیکن رواں برس دو فروری کے بعد سے ان واقعات میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوا۔

تاہم سرکاری حکام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسنگ پرسنز کے معاملے کوبنیادی طور پرایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔ ایک سینیئر اہلکار کے مطابق ‘اس سازش کے تحت دشمن پاکستان کو بدنام کرنے اور عوام کو حکومتی اداروں کے خلاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے’۔

لاپتہ افراد

نوشکی اور پنجگور حملوں کے بعد کتنے افراد لاپتہ ہوئے؟

بلوچ قوم پرست حلقوں کے مطابق دو دہائی قبل بلوچستان سے جبری گمشدگیوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب سابق باوردی صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں حالات خراب ہوئے۔ تاہم ان میں اضافہ سنہ 2005 میں کوہلو میں فوجی آپریشن اور اس کے بعد 2006 میں نواب اکبر بگٹی کی ایک فوجی آپریشن میں مارے جانے کے بعد ہوا۔

سنہ 2000 سے اب تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بد امنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں تاہم سنہ 2021 سے بولان اور اس سے متصل علاقوں کے علاوہ مکران اور آواران میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا۔

اس کے ساتھ ساتھ سیکورٹی فورسز کے کیمپوں (مراکز) پر بھی حملوں میں اضافہ ہوا لیکن یہ حملے شہری آبادیوں سے بہت دور کے علاقوں میں ہوتے رہے۔ تاہم دو فروری 2022 کو افغانستان سے متصل ضلع نوشکی اور ایران سے متصل ضلع پنجگور کے شہری علاقوں کے قریب فرنٹیئرکور کے ہیڈکوارٹرز پر بڑے حملے ہوئے۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کے مطابق ان حملوں کے بعد سے نہ صرف دونوں اضلاع بلکہ بلوچستان کے مخلتف علاقوں سے لوگوں کی جبری گمشدگی کے واقعات میں اضافہ سامنے آیا ہے۔

ان میں پنجگور سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا پر متحرک سماجی کارکن ملک میران بلوچ اور خضدار سے تعلق رکھنے والے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ایم فل کے طالب علم حفیظ بلوچ بھی شامل تھے۔

ملک میران گمشدگی کے تین چار ہفتے بعد بازیاب ہوئے۔ تاہم حفیظ بلوچ اب تک بازیاب نہیں ہوئے ہیں اور ان کی بازیابی کے لیے اسلام آباد میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے دعوی کیا کہ پنجگور اور نوشکی میں جو واقعات رونما ہوئے ہیں ان کے بعد سے اب تک سو سے زائد لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے 70 لوگوں کے رشتہ داروں نے تنظیم سے رابطہ کیا اور ان کے تمام تر کوائف تنظیم کو فراہم کیے ہیں، جن میں یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے طالب علم بھی شامل ہیں۔

نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ دو فروری کے بعد سے پانچ افراد کی تشدد زدہ لاشیں بھی ملی ہیں، جن کے رشتہ داروں نے یہ بتایا کہ ان افراد کو مبینہ طور پرجبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔

فروری سے پہلے دو مہینوں میں کتنے لوگ لاپتہ ہوئے؟

وی بی ایم پی کے صدر نصر اللہ بلوچ کے مطابق فروری سے قبل دو مہینوں کا اگر فروری سے موازنہ کیا جائے تو جبری گمشدگیوں میں کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دسمبر 2021 میں وی بی ایم پی نے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے جن افراد کی ڈاکومینٹیشن کی ہے اور ایسے افراد کی تعداد 26 تھی۔ ان کے مطابق جنوری میں مجموعی طور پر 33 افراد کی گمشدگی کی فہرست تیار کی گئی جبکہ فروری میں گمشدہ ہونے والوں کی تعداد 50 ہوگئی۔

ایچ آر سی پی کا کیا کہنا ہے؟

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے وائس چیئرمین حبیب طاہر ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ بلوچستان میں پہلے سے تھا اور یہ اب بھی ہے۔

ان کے مطابق جہاں تک اعداد و شمار کی بات ہے تو یہ ہم اس لیے نہیں کہہ سکتے کیونکہ واقعات ہو رہے ہیں لیکن وہ رپورٹ نہیں ہو رہے ہیں۔

‘تاہم وی بی ایم پی اوردیگر تنظیمیں یا جو سیاسی جماعتیں ہیں ان کا یہ دعویٰ ہے کہ نوشکی اور پنجگور واقعات کے بعد گمشدگیوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن ہم ان کیسز کو زیادہ تر مانیٹر کرتے ہیں جو رپورٹ ہوئے ہیں’۔

انھوں نے کہا کہ ‘ایچ آرسی پی کے پاس اکا دکا کیسز رپورٹ ہورہے ہیں اور لوگ بازیاب بھی ہورہے ہیں، جیسے ان واقعات سے پہلے ہورہے تھے۔ ہم کوئی خاص فرق محسوس نہیں کررہے ہیں لیکن بعض تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ اضافہ ہوا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ایچ آر سی پی بطور تنظیم کسی ایک فرد کی جبری گمشدگی کے بھی خلاف ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ جرم ہے اس کا سدباب ہونا چاہیے۔

بلوچستان

بلوچستان میں لاپتہ افراد کا نیا مسئلہ کب شروع ہوا؟

بلوچستان میں قوم پرست تنظیموں کا کہنا ہے کہ 70 کی دہائی میں ہونے والی شورش کے دوران بھی لوگوں کو جبری طور پرلاپتہ کیا گیا، جن میں بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کے بڑے بھائی اسد اللہ مینگل اور ان کے ساتھی احمد شاہ بھی شامل تھے، جن کی لاشوں کے بارے ابھی تک پتہ نہیں چل سکا کہ ان کو کہاں دفن کیا گیا۔

تاہم بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر لوگوں کی جبری گمشدگی کا سلسلہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں حالات کی خرابی کے ساتھ شروع ہوا۔

نصراللہ بلوچ کا کہنا ہے کوئٹہ شہر سے ان کے چچا علی اصغر بنگلزئی وہ پہلے شخص تھے جن کو پہلی مرتبہ جون 2000 میں لاپتہ کیا گیا تاہم 14 دن بعد ان کو چھوڑ دیا گیا۔

اس کے بعد 18 اکتوبر 2001 میں انھی کو محمد اقبال نامی ایک شہری کے ساتھ ڈگری کالج کے سامنے سے دوبارہ لاپتہ کیا گیا۔ نصر اللہ بتاتے ہیں کہ 24 دن بعد محمد اقبال کو چھوڑ دیا گیا لیکن علی اصغر 20 سال سے زائد عرصے سے لاپتہ ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ دو دہائیوں سے ہزاروں افراد کو لاپتہ کیا گیا تاہم تنظیم نے مکمل کوائف کے ساتھ جن لوگوں کی فہرست بنائی ان کی تعداد چھ ہزار225 بنتی ہے۔ تاہم ان میں سے جن کی شناخت ہوئی ان کی تعداد 1500 ہے جن کی تنظیم نے فہرست بھی مرتب کی ہے۔

مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ جہاں 2000 سے لوگوں کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ شروع ہوا وہاں 2008 کے بعد سے ان کی تشدد زدہ لاشیں بھی برآمد ہوئیں۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان میں سے متعدد لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئیں۔ وی بی ایم نے دعویٰ کیا کہ لاپتہ افراد کی لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

ایچ آر سی پی کی جانب سے مسلسل تشویش کا اظہار

ایچ آر سی پی نے سنہ 2021 کے حوالے سے بلوچستان سے جبری گمشدگیوں کے حوالے سے اپنی رپورٹ جاری نہیں کی ہے۔

تاہم کمیشن کی 2020 کی رپورٹ میں ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذکورہ سال بھی جبری گمشدگیاں بلوچستان میں ایک سنگین انسانی مسئلہ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا مستقل طور پر احتجاجی کیمپ کوئٹہ اور کراچی میں جاری رہا جبکہ احتجاجی ریلیاں بھی منعقد کی جاتی رہیں۔

ایچ آر سی پی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے اس معاملے کو نہ صرف قومی اسمبلی میں اٹھایا بلکہ پی ڈی ایم کے ایک کے جلسے میں بھی خبر رساں ادارے رئٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں سردار اختر مینگل نے دعویٰ کیا کہ جبری طور پر لاپتہ کیے گئے 450 سے زائد افراد بازیاب ہوئے جبکہ اسی اثنا میں 1800 لوگ لاپتہ کیے گئے ہیں۔’

کمیشن کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بعض کیسز میں لواحقین کو سکیورٹی فورسز نے آواز اٹھانے سے منع کیا۔

ایچ آر سی پی کے عہدیدارحبیب طاہر ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ بلوچستان سے کئی سال سے سینکڑوں بلکہ اگر ہم کہیں کہ ہزاروں کے حساب سے افراد لاپتہ ہوئے ہیں اور مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں تو یہ غلط نہیں ہوگا۔‘

ان کے مطابق یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے بند نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت کا یہ کہنا کہ وہ اس میں ملوث نہیں ہے اور یہ سیاسی معاملہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں یہ درست نہیں بلکہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جو بلوچستان میں موجود ہے جسے حکومت سنجیدہ نہیں لے رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم کہتے ہیں کہ حکومت کو اس کو سنجیدہ لینا چاہیے۔ جتنے بھی لوگ ہیں ان کو فوراً بازیاب کرنا چاہیے’۔

لاپتہ افراد

لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے طویل علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ اور دو طویل لانگ مارچیں

بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج کا سلسلہ تو جبری گمشدگیوں کے واقعات کے ساتھ شروع ہو گیا تھا۔

تاہم جب وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر کے بڑے بیٹے جلیل ریکی کو لاپتہ کیا گیا تو اس کے بعد کوئٹہ میں ایک باقاعدہ علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کیا گیا۔

اگرچہ ماما قدیر کے بیٹے کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی لیکن علامتی بھوک ہڑتال کیمپ کو جاری رکھا گیا جسے اب تک چار ہزارچھ سو دنوں سے زیادہ ہوا ہے۔

اس کیمپ کو سردیوں میں کراچی منتقل کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے طویل لانگ مارچ بھی کیے گئے۔ ان میں سے ایک پیدل لانگ مارچ سنہ 2013 میں ماما قدیر کی قیادت میں پہلے کوئٹہ سے کراچی اور پھر کراچی سے اسلام آباد تک کیا گیا۔

جبکہ دوسرا پیدل لانگ مارچ گلزار دوست بلوچ نے چند روز قبل ایران سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت سے کوئٹہ تک کیا، جس کا فاصلہ 776 کلومیٹر بنتا ہے۔

سنہ 2019 میں اور اس کے بعد سے چار سو سے زائد افراد کی بازیابی

سنہ 2018 کے عام انتخابات کے بعد بلوچستان نیشنل پارٹی نے تحریک انصاف کے ساتھ حکومت سازی کے حوالے سے جو معاہدہ کیا اس میں سے ایک نکتہ لاپتہ افراد کی بازیابی کا تھا۔

تاہم سنہ 2018 کے اواخر اور سنہ 2019 میں بلوچستان میں پہلی مرتبہ خواتین کی بڑی تعداد جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کے لیے سامنے آئی۔

اس کی سب سے بڑی متحرک بلوچستان کے شورش سے متاثرہ علاقے آواران سے تعلق رکھنے والے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنما شبیر بلوچ کی بہن سیما بلوچ اور شبیرکی اہلیہ بنیں جو کہ شبیر بلوچ کی بازیابی کے لیے کوئٹہ آئیں اور یہ ان لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے علامتی بھوک ہڑتال میں بیٹھنا شروع کیا۔

اس میں بڑی تعداد میں دیگر لاپتہ افراد کے خواتین رشتہ داروں نے بھی آنا شروع کیا۔

خواتین کی بڑی تعداد میں احتجاج میں شرکت کے بعد لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم کے عہدیداروں سے بلوچستان کے مشیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے رابطہ کیا اوراس کے بعد وی بی ایم پی کے عہدیداروں کی وزیر اعلیٰ جام کمال سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ سنہ 2019 میں بلوچستان حکومت کے ساتھ آٹھ ملاقاتیں ہوئیں، جن کے دوران انھوں نے حکومت کو 890 لاپتہ افراد کے کیسز فراہم کیے ہیں، جن میں سے اب تک 480 لوگ بازیاب ہوئے۔

احتجاج لاپتہ

،تصویر کا ذریعہAFP

جبری گمشدگیوں کے حوالے سے سرکاری کمیشن پرعدم اعتماد کا اظہار

سنہ 2008 کے عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے جبری گمشدگیوں سے متعلق جو حکومتی کمیشن قائم کیا گیا تھا، وی بی ایم پی نے تنظیم کی سطح پر اسے بے اختیار قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا تھا تاہم لوگ انفرادی طور پر کمیشن کے سامنے پیش ہورہے ہیں۔

26 فروری 2022 کو کوئٹہ میں پریس کلب کے باہر وی بی ایم پی کے زیر اہتمام ہونے والے مظاہرے میں نوشکی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے کہا کہ ان کے دو بھائیوں آصف بلوچ اور رشید بلوچ کو نوشکی میں زنگی ناوڑ کے سیاحتی مقام سے ان کے متعدد دیگر ساتھیوں کے ہمراہ جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے دونوں بھائیوں کے ساتھ ان کے جن دیگر ساتھیوں کو لاپتہ کیا گیا تھا، وہ سارے بازیاب ہوئے لیکن ان کے دونوں بھائی تاحال بازیاب نہیں ہوئے ہیں۔

خاتون نے کہا کہ جب وہ کمیشن کے سامنے پیش ہوئیں تو انھیں کمیشن کی جانب سے بتایا گیا کہ ان کے دونوں بھائی لاپتہ نہیں کیے گئے ہیں بلکہ وہ اپنی مرضی سے بیرون ملک گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے بھائیوں کی جبری گمشدگی کے گواہ وہ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ لاپتہ کیے گئے ہیں لیکن کمیشن والوں نے کہا کہ وہ بیرون ملک گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس کمیشن سے ہم کیا توقع کرسکتی ہیں۔

لاپتہ

لاپتہ افراد کے حوالے سے سرکاری حکام کا موقف کیا ہے؟

جب بلوچستان سے لوگوں کی جبری گمشدگی کے حوالے سے بلوچستان کے مشیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں 20 سال سے دہشت گردی کا ماحول چل رہا ہے۔ ان کے مطابق ‘اس ماحول میں ایسے لوگ ہیں جو یہاں دہشت گردی بھی کرتے ہیں اورایسے لوگ ہیں جو باہر ملک بھی گئے ہیں۔

ان کے مطابق لاپتہ افراد کا معاملہ ذراپیچیدہ ہے کیونکہ کچھ لوگ ریاست کے خلاف کام کرتے ہیں اور ان کے غائب ہونے کی صورت میں ان کو لاپتہ ظاہر کیا جاتا ہے۔

میر ضیا اللہ نے کہا کہ کچھ لوگ حقیقت میں لاپتہ ہیں اور جب حکومت کو پتہ چل جاتا ہے تو حکومت ضرورکوشش کرتی ہے کہ ان کو بازیاب کرائے لیکن لوگوں کے پاس یہ ثبوت نہیں ہوتے ہیں کہ ان کو کس نے لاپتہ کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ یہ ایک مسئلہ تو ہے مگر اب حکومت کی کوششوں سے بہت سارے لوگ بازیاب ہوکر واپس بھی آگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے جب وی بی ایم پی کے لوگوں کو بلایا تو تنظیم کے چیئرمین نے انھیں 392 لاپتہ افراد کی فہرست دی۔

’جب میں نے دو تین ماہ پہلے حال احوال معلوم کیا تو ان میں سے 325 سے 330 لوگ واپس آگئے تھے’۔

اس سوال پر کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے ملکی قانون پر کیوں عملدرآمد نہیں کیا جارہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ حکومت قانون پر اس وقت ضرور عملدرآمد کرے گی جب یہ لوگ حکومت کے پاس ہوں۔

وی بی ایم پی کی جانب سے لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں مارے جانے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے مشیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جو لوگ مارے جاتے ہیں وہ دہشت گردی کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز سے مقابلے میں مارے جاتے ہیں۔

‘اس سلسلے میں حکومت کے پاس کوئی معلومات اور ثبوت نہیں ہیں۔ اگر معلومات اور ثبوت ہوں توریاستی اداروں سے ضرور پوچھا جائے گا’۔

مسنگ پرسنز کا معاملہ بنیادی طور پرایک سوچی سمجھی سازش ہے

سکیورٹی فورسز سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ مسنگ پرسنز کا معاملہ بنیادی طور پرایک سوچی سمجھی سازش ہے، جس کے تحت دشمن پاکستان کو بدنام کرنے اور عوام کو حکومتی اداروں کے خلاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اہلکار نے بتایا کہ حکومت کے قائم کردہ کمیشن کے مطابق مسنگ پرسنز کے 8381 کیسز رپورٹ کیے گئے، جن میں سے 6163 کیسز عدالتی تحقیقات کے بعد ختم کر دیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیشن روزانہ کی بنیاد پر ان کیسزکی سماعت کرتا ہے اور تحقیقات کے مطابق زیادہ تر افراد کو دہشت گرد تنظیمں اغوا کر کے قتل کر دیتی ہیں۔

سینیئر اہلکار نے بتایا اس کے علاوہ بہت سے لوگ دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہو جاتے ہیں اور ان کے گھر والوں کو خبر بھی نہیں ہوتی۔ ان کے بقول پی سی ہوٹل پر حملہ کرنے والوں میں شامل حمل فتح اس کی ایک مثال ہے۔

اہلکار نے بتایا کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے ادارے صرف چند لوگوں کو امن و امان قائم رکھنے کے لیے گرفتار کرتے ہیں، جن کو تفتیش کے بعد بے قصور ہونے کی صورت میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان دشمن عناصر دہشت گرد تنظیموں کو استعمال کر کے لوگوں کو اغوا ور قتل کرواتی ہیں اور جب پاکستانی ایجنسیاں ایسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف ایکشن لیتی ہیں تو ایک سوچی سمجھی چال کے مطابق الزام پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر لگایا جاتا ہے لیکن حکومت جلد اپنے باشعور اور بہادر عوام کے ساتھ سے ان سازشوں کو ناکام بنائے گی’۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *